بنگلورو،27؍جون ( ایس او نیوز ) بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کے ریاستی صدر و سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یڈ یورپا نے کہا کہ ریاست کی مخلوط حکومت کو گرانے کی بی جے پی کو شش نہیں کرے گی ۔ کیونکہ دونوں کے آپسی جھگڑوں سے خود بخود حکومت گرنے والی ہے۔انہوں نے بتا یا کہ جنتادل سکیولر۔ کانگریس مخلوط حکومت کے اندرونی جھگڑوں کا غلط فائدہ نہ اٹھانے پارٹی کے قومی صدر امیت شاہ نے انہیں ہدایت دی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ جب حکومت ہی کمزور ہوجائے تو اس کو مزید کمزور کرنے کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ ڈالرس کالونی کی اپنی رہائش گاہ میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ریاستی بی جے پی ایگزی کیٹیو کمیٹی اجلاس میں شرکت کیلئے دعوت دینے کے مقصد سے اچانک گجرات کا دورہ کرتے ہوئے پارٹی کے قومی صدر امیت شاہ کو مدعو کرنے کے مقصد سے احمد آباد گئے ہوئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مخلوط حکومت کے دونوں پارٹیوں کے لیڈران انتظامیہ امور میں اپنی بات منوانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی ایک بیان دے رہے ہیں تو دوسری طرف سدارامیا اپنا الگ بیان جاری کرنے لگے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ریاستی حکومت عوام پرور کام نہیں کرپارہی ہے۔ایڈی یورپا نے کہا کہ اسمبلی سیشن کے لئے ابھی تک نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوپایا ہے ۔ کسی بھی رکن اسمبلی کو سیشن کے متعلق کوئی اطلا ع تک نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس حکومت سے عوام کو کوئی بھی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور پارٹی کے سینئر ریاستی لیڈر بسواراج بومائی نے احمد آباد پہنچ کر پارٹی کے قومی صدرامیت شاہ کو 29جون سے شہر میں ہونے والی پارٹی ایکزی کیٹیو کمیٹی اجلاس میں شرکت کیلئے مدعو کیا ہے ۔ جس پر انہوں نے شرکت کا یقین دلایا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی قومی صدر سے ملاقات کے دوران انہوں نے ریاستی سیاست یا کوئی اور سیاسی بحث پر بات نہیں کی ہے ۔
یڈ یورپا نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں کتنی سیٹوں پر جیت درج کریا ہے اس کے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی اورپارٹی کے قومی صدر امیت شاہ نے اجلاس طلب کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ جس کے تحت انہوں نے 29جون کو ایگزی کیٹیو کمیٹی اجلاس طلب کیا ہے ۔ لوک سبھا ضمنی انتخابات کے سلسلہ میں پارٹی نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے اور امیدواروں کا انتخاب بھی عمل میں نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی قانون ساز کونسل لیڈر منتخب کرنے کے معاملہ میں ابھی کوئی قطع فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔